مصنوعی ذہانت صرف سمارٹ فونزمیں نہیں بعلکہ جلیبیاں بنانے میں بھی استعمال ہوسکے گی

مصنوعی ذہانت صرف سمارٹ فونزمیں نہیں بعلکہ جلیبیاں بنانے میں بھی استعمال ہوسکے گی
پاکستانی ادارے ’ روبوٹکس اینڈ آٹومیشن ڈویلپمنٹ ایسوسی ایشن‘ آر اے ڈی اے کے شریک بانی عبداللہ افضل کو 2017ء میں اس روبوٹ کو بنانے کا خیال اس وقت آیا جب وہ ناروے میں اپنے ایک دوست سے ملنے گئے جو پاکستانی مٹھائیوں اور مصنوعات کو فروخت کرتے تھے۔ ناروے میں افرادی قوت مہنگی ہونے کے باعث انہوں نے جلیبی ساز روبوٹ پر کام کیا۔

عبداللہ افضل میکاٹرونکس کے ماہر ہیں اور انہوں نے اپنے پاکستانی ساتھی محمد زبیر کے ساتھ مل کر جلیبی روبوٹ پر کام کیا اور یوں ایک سال میں روبوٹ جلیبی بنانے کے قابل ہوگیا۔
عبداللہ افضل نے بتایا کہ روبوٹ بنانے میں کئی مشکلات پیش آئیں کسی بھی ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپ کمپنی کے چار اہم اجزا ہوتے ہیں یعنی وقت، مستقل مزاجی، ناکامی اور رقم ، ان سے گزرتے ہوئے ہم چوتھا روبوٹ پروٹوٹائپ (نمونہ) تیار کررہے ہیں یہ روبوٹ صارف کی تمام ضروریات پوری کرے گا تاہم اس میں غذائی معیارات کے بین الاقوامی اصول نظرانداز نہیں کیے جائیں گے۔

جل بوٹ کا پورا فریم بے زنگ فولاد پرمشتمل ہے اور ایک گھنٹے میں 40 کلوگرام جلیبیاں بناسکتا ہے۔ اس میں تبدیلی کرکے صارف کی ضرورت کے تحت تبدیل کیا جاسکتا ہے جس میں جلیبی کی چھوٹی یا بڑی جسامت شامل ہے۔ دوسری جانب چاکلیٹ وغیرہ کو من پسند شکلوں اور سائز میں بھی تیار کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ کیک بنانے میں بھی استعمال ہوسکتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ناروے کی کئی بیکریوں کو جل بوٹ فروخت کیا جاچکا ہے اور دوسرے مرحلے میں اسے برطانیہ کی بیکریوں کو فروخت کرنے کی بات چیت بھی جاری ہے۔

اگلے مرحلے میں ڈبل جلیبی بنانے والی مشین تیار کی جائے گی ۔ اس کے علاوہ آر اے ڈی اے نے تھری ڈی پرنٹر سے کھانے کی اشیا بنانے پر بھی کام شروع کردیا ہے۔ اگلے مرحلے میں چاکلیٹ سے دلہا دلہن، کار یا سالگرہ کی تصاویر بنانے کی کوشش بھی کی جائے گی۔

اسی ضمن میں بھارت میں ڈی اے ایس ٹیکنالوجی نے بھی ایسی ہی جلیبی مشین تیار کی ہے جو امرتی بناسکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں